عید کی صبح
پرانے گھر کی دیواروں پر وقت نے اپنے دستخط چھوڑ رکھے تھے۔ کہیں پلستر اکھڑا ہوا، کہیں کسی بچے کی پنسل سے کھنچی ہوئی لکیر، اور آنگن کے بیچوں بیچ وہ نیم کا درخت جس کے نیچے ہر عید کی صبح پورا خاندان جمع ہوتا تھا۔
ابّا کو گئے ایک سال ہو گیا تھا۔ اب گھر بکنے والا تھا، اور تینوں بھائی آخری بار اس کے دروازے پر کھڑے تھے، جیسے کسی پرانے دوست سے ملنے آئے ہوں جسے وہ پہچانتے تو ہیں مگر پکار نہیں سکتے۔
بڑے بھائی سلیم نے زنگ آلود تالے میں چابی گھمائی۔ دروازہ ایک لمبی، تھکی ہوئی آہ کے ساتھ کھلا۔
اندر امّی کی چارپائی ویسے ہی بچھی تھی۔ باورچی خانے کی طاق پر مٹی کا وہ پیالہ رکھا تھا جس میں وہ لسی بنایا کرتی تھیں۔ دیوار پر لگا کیلنڈر اب بھی پچھلے رمضان پر رکا ہوا تھا۔
چھوٹا بھائی عمر آنگن میں جا کر نیم کے نیچے بیٹھ گیا اور بہت دیر تک کچھ نہ بولا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا، ”بھائی جان، یہ گھر ہم نہیں بیچ سکتے۔ یہاں ابّا کی آواز ابھی تک رکی ہوئی ہے۔“
سلیم نے جواب نہیں دیا۔ مگر اس نے چابی واپس جیب میں رکھ لی، اور تینوں بھائی شام ڈھلنے تک اس آنگن میں بیٹھے رہے، جیسے کسی کے لوٹ آنے کا انتظار کر رہے ہوں۔